< Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng ký
Đăng tin
Cung cấp
Yêu cầu
Nhóm
Bạn bè
Đăng tin
Đăng nhập
Đăng ký
mandviwala
|
Nhắn tin
Tiêu đề
کمالیہ کا مشہور خالص سوتی دھاگے سے تیار کردہ کمالیہ کھدر - سردیوں کا خاص تحفہ
Groups
Vị trí
Islamabad, Islamabad Capital Territory, Pakistan
Đính kèm
Nội dung
کیوں کھادی سب سے زیادہ پائیدار کپڑوں میں سے ایک ہے جس پر ابھی غور کرتے ہیں جو کبھی پاکستان کی آزادی کی جدوجہد کی علامت تھا. کھادی نے ہماری قوم کی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا.
جو مرد خطان (کھدّر) کا کپڑا پہنتا ہےقدیم حکمت کيمطابق وہ کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ہماری روایات میں بھی کھدّر کے استعمال کا تزکرہ مجود ہے.
کھادی کے ریشے بہت نرم آرام ده اور انتہائی مضبوط ہوتے ہیں۔پیور سوتی دھاگے سے بنا یہ ایک قدرتی کپڑا ہے کھدّر پہن کر ایک سکون محسوس ہوتا ہے جسے کپڑا جسم کو سہلا رہا ہو، یہ ہر بار دُھلنے پر مزید نکھر جاتا ہے۔ کھادی کی ایک دلکش قدرتی بناوٹ ہوتی ہے۔
آج کے جدید دور میں بھی یہ کپڑا قدیم کھڈی لومز پر پیور سوتی دھاگے سے بنایا جاتا ہے کھادی تانے بانے کی خاص بناوٹ ہے جو باقی کپڑوں سے اِسکو دِلکش اور منفرد بناتی ہے
سردیوں اور گرمیوں کیلئے الگ الگ کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔
سردیوں کا کھدّر وزن میں کم زیادہ موٹا نہیں ہوتا ہے پر یہ پُيور سوتی ہونیکی وجہ سے سرد موسم میں گرم تاثیر کاحامل ہے۔
گرمیوں کا کھدّر ديکھنے میں بلکل لون کاٹن کیطرح ہوتا ہے ٹھنڈا پائیدار اور انتہائی نرم و ملائم۔
سوتی کپڑے کی خصوصیت ہے کہ سردی میں گرم تاثیر کا حامل ہوتا ہے اور گرمی میں ٹھنڈا ہے انسانی جسم کیلئے آرام دہ ہے کیونکہ اِسکا دھاگہ خالص کپاس سے بنا ہے یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹرز جِلدی مسائل سے دوچار افراد کو سرد گرم دونوں موسم میں سوتی کپڑا ہی استمال کرنےکا مشورہ دیتے ہیں۔
ہندوستانیوں رہنمائوں نے آزادی کی جدوجہد کے دوران چرخی کو قومی علامت بنایا۔ برطانوی ٹیکسٹائل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تاکہ ہمارے اپنے ملک کی قدیم کرافٹ روایات کو مقبول کیا جا سکے ۔
اِسکی کی تاریخ دو ہزار سال پرانی ہے پر قائد اعظم محمد علی جناح کے دور میں بڑے پیمانے پر کھدّر بننا شروع ہوا جب ہندوستانی رہنماؤں نے ایک تحریک کی بنیاد رکھی جسکا مقصد انگریزوں کی مصنوعات کا استعمال کم کرنا تھا۔
جیسے ہی ہندستان 'سودیشی موومنٹ' شروع ہوئی ، غیر ملکی اشیاء کو چھوڑ دیا گیا ، جس کے نتیجے میں برطانوی ٹیکسٹائل کا متبادل پیدا ہوا۔ یہ چھوٹا سا کپڑا انگریزوں کی استحصالی پالیسیوں کو اجاگر کرنے کا ایک طریقہ تھا۔
اگر آج بھی ایک قوم اپنی مصنوعات استمال کرنا شروع کر دیے تو لامحدود فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔
ہندوستانی رہنماؤں کو یقین تھا کہ کھدّر کی فروخت لوگوں کی روز مرہ زندگی میں بہتر تبدیلیاں لاے گی جس سے مقامی لوگوں کیلئے روزگار پیدا ہوگا، انہوں نے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنا سوت بُنیں اور ملک کے ورثے کو قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے اسے فخر کے ساتھ پہنیں۔
'کھادی روح' کا مطلب ہے لامحدود صبر۔ وہ لوگ جو کھادی کی پیداوار کے بارے میں کچھ جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کتنے صبر سے اسپنر اور بُننے والوں کو اپنی تجارت پر محنت کرنی پڑتی ہے۔
کمالیہ شہر آج بھی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دُنیا میں اپنی اس پروڈکٹ کی وجہ سے جانا اور پہنچانا جاتا ہے۔
اگر آپ نے مقامی سطح پر تیار کردہ یہ تاریخی اور ثقافتی کمالیہ کھدر استمال نہیں کیا تو آپ ایک دفعہ ضرور آزمائیں۔
ہمیں فخر ہے کہ کمالیہ کھدر دُنیا میں سب سے زیادہ سیل ہونیوالا کھدر فیملی میں کھدر کا ایک مقامی برانڈ ہے۔
آپ عزیز و اقارب کو گفٹ کے طور پر بھی بھجوا سکتے ہیں۔
تحریر - افّان علی مانڈیوالا
Chọn danh mục quản lý tin đăng!